Posts

Showing posts from August, 2020

غازی ارطغرل سیزن 2 قسط نمبر 14

Image

Ertugrul Ghazi season 2 episode 12 ptv

Image

سلطان محمد فاتح

Image
  قسطنطنیہ کی فتح، جسے یورپ آج تک نہیں بھولا 29 مئی 1453: رات کا ڈیڑھ بجا ہے۔ دنیا کے ایک قدیم اور عظیم شہر کی فصیلوں اور گنبدوں پر سے 19ویں قمری تاریخ کا زرد چاند تیزی سے مغرب کی طرف دوڑا جا رہا ہے جیسے اسے کسی شدید خطرے کا اندیشہ ہے۔ اس زوال آمادہ چاند کی ملگجی روشنی میں دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ شہر کی فصیلوں کے باہر فوجوں کے پرے منظم مستقل مزاجی سے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ان کے دل میں احساس ہے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ شہر قسطنطنیہ (موجودہ نام: استنبول) ہے اور فصیلوں کے باہر عثمانی فوج آخری ہلہ بولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عثمانی توپوں کو شہر پناہ پر گولے برساتے ہوئے 47 دن گزر چکے ہیں۔ کمانڈروں نے خاص طور پر تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ 21 سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی غیر متوقع طور پر اپنی فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حتمی یلغار فصیل کے 'میسو ٹیکیون' کہلانے والے وسطی حصے سے کی جائے گی جس میں کم از کم نو شگاف پڑ چکے ہیں اور خندق کا بڑا حصہ پاٹ دیا گیا ہے۔ سر پر بھاری پگڑ باندھے اور طلائی خ...

ننگے بدن والا ایک صحابی کا لقب

Image
#_ننگے_بدن_والا 🌋 ایک انسان تھا جسے دنیا "ضرار بن ازور ؓ " کے نام سے جانتی تھی! ۔ ۔ ۔ یہ ایک ایسے انسان تھے کہ اس دور میں دشمن ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے اور انکی راہ میں آنے سے کتراتے تھے۔ جنگ ہوتی تھی تو سارے دشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔ لیکن آفریں حضرت ضرار ؓ پر, زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔ لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور انکے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کے صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ان کی بہادری نے بےشمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو تعریف کرنے اور انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔ دشمنوں میں وہ "ننگے بدن والا" کے نام سے مشہور تھے۔ رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرارؓ حسب معمول میدان میں اترے اور صف آراء دشمن فوج پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑے, اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتے دشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔ دشمن نے انہیں اپنے درمیاں دیکھ...

یمن کا بادشاہ تبع خمیری

Image
حضّور صلّی اللّہ عَلیہ وآلہ وَسّلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع خمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار ما...

Sultan Abdul Hameed bolom 75

Image
Sultan Abdul Hameed bolom 74

پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ پیش ،کن علاقوں کو شامل کرلیا گیا ؟پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

Image
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان نے اپنی جغرافیائی حدود کا تعین کرتے ہوئے نیا سیاسی نقشہ پیش کردیا جس میں جموں و مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔نقشے میں لائن آف کنٹرول کو بھی واضح طور پر دکھا یا گیا ہے۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے نئے نقشے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے سیاسی نقشے کی تقریب رونمائی کے دوران کابینہ ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایک دن یہ ہی نقشہ پاکستان کا نقشہ ہو گا ،یہ نقشہ پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے ۔بعد ازاں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتا یا کہ نئے نقشے میں فاٹا کے علاقوں کو خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا گیا ۔ان کا کہنا تھاکہ اس نقشے کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں اور کشمیر ی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا ۔

ترگت الپ تاریخی تناظر میں

Image
دوستو ترگت الپ دیرلیس ارطغرل کا ایک اہم کردار تھا اور بہت سے لوگ اسے کرولس عثمان میں دیکھنا پسند کرتے ہیں  کیونکہ لوگ کلہاڑی کے ساتھ اس کے لڑنے کا طریقہ پسند کرتے ہیں  ہم نے تاریخ کا مطالعہ کیا کہ تاریخ کس طرح ترگت الپ کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے ں  تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عثمانی تاریخ کا ایک اہم حصہ تھا  اگر انہیں کورولس عثمان میں شامل نہ کیا گیا تو یہ تاریخی طور پر غلط ہوگا کیونکہ ، تاریخ کے مطابق ، وہ عثمان غازی کے بیٹے اورہان غازی کے عہد تک زندہ رہا اور 125 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا  دوستو انھیں عثمانی تاریخ کا ایک بہترین جنگجو اور ارطغرل غازی کا قریبی دوست قرار دیا گیا ہے۔ 9  وہ کائی قبیلے کا ایک الپ تھا اور اس کی کلہاڑی بہت مشہور تھی اور سلطنت عثمانیہ کے غازیوں میں اس کا نام بھی شامل تھا 10  اس کی پیدائش کی جگہ معلوم نہیں ہے ، لیکن تاریخ میں ان کی تاریخ پیدائش 1200CE ہے 11  ارغول غازی کی موت کے بعد ، انہوں نے عثمانی سلطنت کے بانی عثمانی غازی کی حمایت جاری رکھی۔ 12  وہ عثمان غازی کی س...