Posts

Showing posts with the label عظیم الشان سپہ سالار

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Image
   حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت و بہادری  حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ  منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا ۔  جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ آپؓ کا گھوڑا ’’اشجر‘‘ جس پر بیٹھ کے آپ نے تمام جنگیں لڑیں ، وہ بھی آنسو بہارہا تھا ۔  حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار ، تلواریں ، خنجر اور نیزے تھے ۔  ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ،،اللہﷻ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے ۔ وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا، وہ اللہﷻ کی راہ میں خرچ کردیا۔ ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی ۔ صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح نہ کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضورؐ سے حضرت خالدؓ کے روحانی تعلق کی گواہی دی ۔ Hazrat Khalid Bin Waleed گونجتی تھیں دشت...

The ottoman empire

Image
 Ah, yes, the Ottoman Empire; a land of proud history, unique furniture, and criminally underappreciated Assassin's Creed sequels. Between its rise in the 1300s and its dissolution after the first world war the Ottomans have been around for a good long while and they spanned a lot of the Mediterranean in the interim. Early modern Europeans refer to them as the sick man of Europe as a Polite way of saying just die already. But as we'll see that lasting portrayal of weakness and seemingly perpetual decline Really misses the point. So, to find out what makes the Ottomans more than just a sick man, let's do some history. Early Ottoman history is notoriously murky because they didn't do a lot of writing until they stopped moving their capital every thirty years and properly settled down But it all started with this one guy named Osman who had a very apocryphal but nonetheless Interesting dream of a tree growing out of him and covering the entire world in it's shade. Whi...

خیر الدین باربروسا پاشا عثمانی عظیم بحری کمانڈر

Image
خیر الدین باربروسا/پاشا پیدائش ١۴٧٠ سلطنتِ عثمانیہ کی سیاسی و فوجی طاقت 14  . صدی  میں تینوں برااعظموں میں عروج پر تھی ایشیا ،یورپ ،افریقہ ۔ ترکوں کو زمینی جنگ میں ہرانا تقریباً نا ممکن سا تھا اس وقت کیوں کے انکی جنگی حکمت عملی دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کے لئے ہمیشہ کافی ہوتی تھی جنگ کے میدان میں سب سے تیز فیصلہ لینے والی عثمانی ترکوں کی تھی عثمانیوں نے  ہنگری آور آسٹریا کو مکمل  تباہ کیا تھا  جب کے انکے بحری بیڑے باربروسا کی کمانڈ میں جینوا آور اسپین کے بحری بیڑوں کے تعاقب میں تھا بحیرہ روم میں مسلمانوں کے پاس ایک سونا صرف زمین تھی اس وقت  عباسیہ ،بنو امیہ آور دوسری مسلمان سلطنت نے بحری قوت پر زور نہیں دیا نا ہی توجہ دی عثمانی ترک وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے اس چیز کی کمی محسوس کی تھی باربروسا کی کمانڈ میں بحیرہ روم میں مسلمانوں کی دھک بٹھائی گئی جسے یورپ آور اہلِ مغرب آج تک نہیں بھولے باربروسا کے متعلق متعدد کہانیاں آور داستانیں ہے لیکن یہ داستان اہلِ مغرب کے ایک مصنف نے لکھی ہے جسکا نام ہے "History of the Turkish rule in Africa" Writt...

سکندر اعظم آدھی دنیا کا فاتح ایک عظیم لیڈر

Image
Alexander III of Macedon سکندراعظم سکندر 350 سے 10 جون 323  قبل مسیح  تک  مقدونیہ  کا حکمران رہا۔ اس نے  ارسطو  جیسے استاد کی صحبت پائی۔ کم عمری ہی میں یونان کی شہری ریاستوں کے ساتھ  مصر  اور  فارس  تک فتح کر لیا۔ کئی اور سلطنتیں بھی اس نے فتح کیں جس کے بعد اس کی حکمرانی  یونان  سے لے کر  ہندوستان  کی سرحدوں تک پھیل گئی۔صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔ یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عاید ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو کسی طرح پورا کرے۔ ابتدائی زندگی باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر بیس سال تھی۔ لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔ سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوت...

دریائے شنیل میں کس سپہ سالار کا جسد خاکی محفوظ ہے

Image
‏دریائے شنیل اسلامی تاریخ میں بہت ہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں غرناطہ کے آخری سپہ سالار  شیر غرناطہ موسی بن غسان کا جسدِ مبارک پڑا ہے جس نے سقوط غرناطہ کے بعد دوسروں کی طرح ہتھیار ڈالنے کی بجائے تن تنہا دشمن سے لڑنے کو ترجیح دی اور دشمن کے بےشمار سپاہیوں کو قتل کرتا ہوا دریا میں کود گیا ‏موسی بن غسان اسلامی تاریخ خاص طور پر غرناطہ اور اندلس کی تاریخ کا بہت بڑا ہیرو ہے  جس نے خود کو دشمن کے سامنے بیچنے کی بجائے دشمن کے ساتھ لڑ کر شہید ہونے کو ترجیح دی۔ موسی بن غسان جیسے مرد مجاہد مائیں روزانہ نہیں جنا کرتی